سنن نسائی حدیث ۲۶۵۱ - ہدی نہ ہو تو احرام کھولنا
ہدی نہ رکھنے والوں کے لیے احرام کھولنے کا حکم
سنن نسائی : ۲۶۵۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۵۱
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ , أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ , تَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ ، " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَحِلَّ الْمَوَاقِيتُ " .
عائشہ روایت:
ذی قعدہ کی پانچ تاریخیں رہ گئی تھیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے) سے نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن کے پاس ہدی (قربانی کا جانور) نہیں تھا حکم دیا کہ وہ طواف کر چکیں تو احرام کھول دیں۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۵۱ کا خلاصہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذی قعدہ کی پانچ تاریخیں باقی رہتے ہوئے مدینہ سے نکلیں۔ ان کے پیش نظر صرف حج تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو حکم دیا جن کے پاس ہدی یعنی قربانی کا جانور نہیں تھا کہ جب وہ بیت اللہ کا طواف کر لیں تو احرام کھول دیں۔ اس حدیث میں حج کے سفر، ہدی، طواف کے بعد احرام کھولنے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی رہنمائی کا ذکر ہے۔ متن میں حکم خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جن کے پاس ہدی نہیں تھی، اس لیے اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج کے احکام میں ہدی رکھنے اور نہ رکھنے والوں کا فرق ہو سکتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے بعد احرام کھولنے کا حکم دیا۔
- حج کے سفر میں حکم کی پابندی ضروری ہے۔
- حدیث میں بیان شدہ شرط کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
