سنن نسائی حدیث ۲۶۷ - ہر حال میں قرآن مگر جنابت نہیں
جنابت کے سوا ہر حال میں قرآن کی تلاوت
سنن نسائی : ۲۶۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ الرِّقِّيُّ ، قال : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قال : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ الْقُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ لَيْسَ الْجَنَابَةَ " .
علی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں قرآن پڑھتے تھے سوائے جنابت کے۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۷ کا خلاصہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں قرآن پڑھتے تھے، سوائے جنابت کے۔ یہ حدیث بہت صاف انداز میں قرآن کی تلاوت اور جنابت کے مسئلے کو بیان کرتی ہے۔ متن کے مطابق اصل بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت عام حالات میں جاری رہتی، لیکن جنابت کی حالت اس سے الگ تھی۔ اس سے قرآن کے ادب اور طہارت کی اہمیت کا اشارہ ملتا ہے۔ یہاں کسی لمبی بحث یا اضافی حکم کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ روایت خود مختصر ہے۔ جو شخص جنابت میں قرآن پڑھنے کی حدیث تلاش کرتا ہے، اس کے لیے یہ روایت بنیادی اور واضح الفاظ رکھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی تلاوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔
- جنابت کی حالت کو تلاوت سے الگ بیان کیا گیا ہے۔
- قرآن کے ساتھ ادب اور پاکیزگی کا خیال رکھنا چاہیے۔
- مختصر حدیث سے زائد دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔
