سنن نسائی حدیث ۲۶۸ - مسلمان ناپاک نہیں ہوتا
مسلمان ناپاک نہیں ہوتا: جنابت کا صحیح فہم
سنن نسائی : ۲۶۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۸
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ مَاسَحَهُ وَدَعَا لَهُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بُكْرَةً فَحِدْتُ عَنْهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُكَ فَحِدْتَ عَنِّي ، فَقُلْتُ : إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَخَشِيتُ أَنْ تَمَسَّنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ " .
´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب میں سے کسی آدمی سے ملتے تو اس (کے جسم) پر ہاتھ پھیرتے، اور اس کے لیے دعا کرتے تھے، ایک دن صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر میں کترا گیا، پھر آپ کے پاس اس وقت آیا جب دن چڑھ آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں دیکھا تو تم مجھ سے کترا گئے؟“ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ مجھ پر ہاتھ نہ پھیریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان ناپاک نہیں ہوتا“ ۱؎۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے ملتے، ان کے جسم پر ہاتھ پھیرتے اور دعا کرتے تھے۔ ایک دن حذیفہ رضی اللہ عنہ جنبی تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کترا گئے کہ کہیں آپ انہیں چھو نہ لیں۔ بعد میں جب وہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی۔ انہوں نے بتایا کہ میں جنبی تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ جنابت ایک شرعی حالت ہے جس کے لیے غسل چاہیے، مگر مسلمان کا جسم بذات خود نجس نہیں ہو جاتا۔ یہ روایت طہارت، جنابت اور مسلمان کی عزت کو آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنابت کی حالت میں غسل کی ضرورت ہے، مگر مسلمان کا جسم نجس نہیں ہوتا۔
- صحابہ کرام اپنے حال کے بارے میں بہت محتاط تھے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط فہمی کو نرمی سے درست فرمایا۔
- دین میں پاکیزگی کے ساتھ انسان کی عزت بھی باقی رہتی ہے۔
