سنن نسائی حدیث ۲۶۹ - مسلمان نجس نہیں ہوتا
جنبی مسلمان بھی نجس نہیں ہوتا
سنن نسائی : ۲۶۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۹
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، قال : حَدَّثَنِي وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ فَأَهْوَى إِلَيَّ ، فَقُلْتُ : إِنِّي جُنُبٌ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ " .
حذیفہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے، اور وہ (حذیفہ) جنبی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف بڑھے تو میں نے عرض کیا میں جنبی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان نجس نہیں ہوتا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۹ کا خلاصہ
اس روایت میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے جبکہ وہ جنبی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف بڑھے تو انہوں نے عرض کیا کہ میں جنبی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان نجس نہیں ہوتا۔ حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ جنابت کی حالت انسان کو غسل کا محتاج بناتی ہے، لیکن مسلمان کو بذات خود نجس نہیں بناتی۔ اس لیے جنابت اور نجاست کو ایک جیسا سمجھنا درست نہیں۔ روایت کا انداز بہت مختصر ہے، مگر غلط فہمی دور کرنے کے لیے کافی ہے۔ جو لوگ جنبی مسلمان، طہارت اور نجاست کے بارے میں سوال کرتے ہیں، ان کے لیے یہ حدیث واضح جواب دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنبی ہونے سے مسلمان کا جسم نجس نہیں ہو جاتا۔
- شرعی ناپاکی اور جسمانی نجاست میں فرق سمجھنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی کی غلط فہمی دور فرمائی۔
- دینی مسئلہ سمجھنے میں الفاظ حدیث کو بنیاد بنانا چاہیے۔
