سنن نسائی حدیث ۲۶۸۶ - طواف سے پہلے حل کی خوشبو
احرام اور طواف سے پہلے خوشبو کا بیان
سنن نسائی : ۲۶۸۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۸۶
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ " .
عائشہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگائی۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۸۶ کا خلاصہ
اس روایت میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کے لیے خوشبو لگائی، اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں۔ پھر آپ کے احرام کھولنے کے لیے بھی خوشبو لگائی، اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف کریں۔ اس حدیث میں دو وقت خاص طور پر ذکر ہوئے ہیں: احرام سے پہلے اور حل کے موقع پر طواف سے پہلے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حدیث احرام سے پہلے خوشبو، حل کے وقت عطر اور طواف سے پہلے خوشبو کے موضوع پر اہم ہے۔ اس میں اصل زور عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان پر ہے، نہ کہ کسی الگ واقعے کی لمبی تفصیل پر۔ حدیث کا پیغام اتنا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل میں خوشبو کا استعمال ان خاص اوقات میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام سے پہلے خوشبو لگانے کا عمل اس روایت میں واضح ہے۔
- حل کے وقت طواف سے پہلے خوشبو لگانے کا ذکر آیا ہے۔
- حدیث میں وقت کی ترتیب کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان حج کے عملی آداب بتاتا ہے۔
