سنن نسائی حدیث ۲۶۸۸ - رمی کے بعد طواف سے پہلے خوشبو
جمرہ عقبہ کے بعد خوشبو لگانے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۶۸۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۸۸
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ ، وَلِحِلِّهِ بَعْدَ مَا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ " .
عائشہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے خوشبو لگائی جس وقت آپ نے احرام باندھا، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی اس کے بعد کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، اور اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف کریں۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا ایک خاص ترتیب بیان کرتی ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کے لیے خوشبو لگائی جب آپ نے احرام باندھا۔ پھر احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی، اس کے بعد کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، اور اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف کریں۔ اس روایت میں جمرہ عقبہ، رمی، حل احرام اور طواف کے الفاظ بہت اہم ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشبو کے ذکر کو حج کے اعمال کی ترتیب کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ متن میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر وقت خوشبو لگائی گئی، بلکہ ایک خاص موقع بتایا گیا: رمی کے بعد اور طواف سے پہلے۔ اس لیے یہ حدیث حج میں خوشبو کے وقت کو سمجھنے کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد خوشبو لگانے کا بیان آیا ہے۔
- بیت اللہ کے طواف سے پہلے کا وقت روایت میں واضح ہے۔
- حج کے اعمال میں ترتیب کو سمجھنا ضروری ہے۔
- حدیث مخصوص موقع بیان کرتی ہے، عام اندازہ نہیں۔
