سنن نسائی حدیث ۲۶۹۳ - مشک والی خوشبو
احرام اور یوم النحر پر مشک والی خوشبو
سنن نسائی : ۲۶۹۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۹۳
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ، وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ " .
عائشہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ایسی خوشبو لگائی جس میں مشک کی آمیزش تھی۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگائی، اور ذی الحجہ کی دسویں تاریخ یعنی یوم النحر کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے بھی خوشبو لگائی۔ روایت میں ایک اضافی بات یہ ہے کہ اس خوشبو میں مشک کی آمیزش تھی۔ اس لیے مرکزی موضوع احرام سے پہلے خوشبو، یوم النحر کی خوشبو اور مشک والی خوشبو ہے۔ یہ حدیث وقت اور خوشبو دونوں کو واضح کرتی ہے۔ متن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ خوشبو ان خاص موقعوں پر لگائی گئی۔ اس میں ہمیں اپنی طرف سے کوئی نیا واقعہ شامل نہیں کرنا چاہیے۔ عام قاری کے لیے یہ روایت حج کے دنوں میں نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی ایک مختصر مگر واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام سے پہلے خوشبو لگانے کا ذکر آیا ہے۔
- یوم النحر کو طواف سے پہلے خوشبو کا بیان موجود ہے۔
- اس روایت میں مشک آمیز خوشبو کی وضاحت آئی ہے۔
- حدیث کے الفاظ وقت اور خوشبو کی نوعیت دونوں بتاتے ہیں۔
