سنن نسائی حدیث ۲۶۹۸ - مانگ میں عطر کی چمک
سر کی مانگ میں احرام کی خوشبو
سنن نسائی : ۲۶۹۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۹۸
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
عائشہ روایت:
گویا کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی مانگ میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۹۸ کا خلاصہ
اس روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی مانگ میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے، خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ یہاں “مفرق رأس” یعنی سر کی مانگ کا ذکر حدیث کو بہت خاص بنا دیتا ہے۔ پہلے کی روایات میں سر، مانگ اور بالوں کی جڑوں کے الفاظ آئے ہیں، اور یہ سب ایک ہی مشاہدے کے قریب قریب انداز ہیں۔ اس حدیث کا مقصد یہ بتانا ہے کہ احرام کی حالت میں نبی صلى الله عليه وسلم کے سر میں خوشبو کا اثر نظر آتا تھا۔ یہ اثر اس خوشبو سے متعلق ہے جس کا ذکر دوسری روایات میں احرام سے پہلے کے وقت میں آیا ہے۔ اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا درست ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سر کی مانگ میں خوشبو کی چمک کا ذکر ہے۔
- روایت احرام کی حالت کا مشاہدہ بیان کرتی ہے۔
- الفاظ میں جگہ کی تعیین معنی کو واضح کرتی ہے۔
- اسے احرام سے پہلے خوشبو والی روایات کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔
