سنن نسائی حدیث ۲۶۹۹ - محرم سر میں خوشبو
محرم ہوتے ہوئے سر میں خوشبو کی چمک
سنن نسائی : ۲۶۹۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۹۹
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، قَالَ : : نَبَّأَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ غُنْدُرٌ , عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
عائشہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں اس حال میں کہ آپ محرم خوشبو کی چمک دیکھی ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۹۹ کا خلاصہ
یہ روایت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گواہی کے انداز میں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں اس حال میں کہ آپ محرم تھے، خوشبو کی چمک دیکھی ہے۔ اس میں “لقد رأيت” کے مفہوم سے بات کی پختگی ظاہر ہوتی ہے۔ حدیث کا مرکزی موضوع احرام میں خوشبو کی چمک ہے۔ اس سے زائد یہ نہیں کہا گیا کہ خوشبو کب لگائی گئی، مگر اس سے پہلے کی روایات میں احرام سے پہلے خوشبو کا وقت آ چکا ہے۔ اس لیے اس روایت کو اکیلا پڑھ کر غلط نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے۔ عام قاری کے لیے آسان بات یہ ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم کے سر میں عطر کا اثر احرام کی حالت میں دیکھا اور اسے روایت کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو کی چمک دیکھنے کی گواہی دی۔
- روایت میں نبی صلى الله عليه وسلم کے سر اور احرام کی حالت دونوں ذکر ہوئے ہیں۔
- خوشبو لگانے کا وقت اس روایت میں الگ سے نہیں آیا۔
- متن کو اسی موضوع کی دوسری روایات کے ساتھ پڑھنا مفید ہے۔
