سنن نسائی حدیث ۲۷۲۷ - حج و عمرہ جمع کرنے کا بیان
حج اور عمرہ کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۷۲۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۲۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يَقُولُ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ، ثُمَّ تُوُفِّيَ قَبْلَ أَنْ يَنْهَى عَنْهَا ، وَقَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْقُرْآنُ بِتَحْرِيمِهِ " .
مطرف روایت:
مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سے پہلے کہ آپ اس سے منع فرماتے یا اس کے حرام ہونے کے سلسلے میں آپ پر کوئی آیت اترتی آپ کی وفات ہو گئی۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے صاف الفاظ میں کہا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم کی وفات اس سے پہلے ہوئی کہ آپ اس سے منع فرماتے یا اس کے حرام ہونے کے بارے میں کوئی آیت اترتی۔ اس روایت کا مرکزی موضوع حج و عمرہ جمع کرنا، حج قران اور تمتع کا مسئلہ ہے۔ حدیث کا انداز مختصر ہے مگر بات واضح ہے: عمران رضی اللہ عنہ اس عمل کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے عمل کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔ اس میں کسی لمبی بحث یا اضافی واقعے کا ذکر نہیں، اس لیے اسی حد تک بات رکھنی چاہیے۔ اس حدیث سے یہ سمجھ آتی ہے کہ دینی مسئلے میں نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل بہت مضبوط دلیل ہے، خاص طور پر جب راوی یہ بھی بتا رہا ہو کہ اس کے منع یا تحریم کی بات نازل نہیں ہوئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کیا۔
- راوی نے بیان کیا کہ اس سے منع فرمانے کا ذکر نہیں آیا۔
- حج کے مسئلے میں نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل اصل رہنمائی ہے۔
- مختصر حدیث میں بھی واضح دینی نکتہ موجود ہو سکتا ہے۔
