سنن نسائی حدیث ۲۷۲۸ - سنت کے مقابلے میں ذاتی رائے
حج و عمرہ جمع کرنے میں سنت اور رائے کا فرق
سنن نسائی : ۲۷۲۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۲۸
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ : فِيهِمَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ .
عمران روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سلسلے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی ان دونوں کو جمع کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا، لیکن ایک شخص نے ان دونوں کے بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۲۸ کا خلاصہ
اس روایت میں عمران رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا۔ پھر اس بارے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی، اور نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے بھی حج و عمرہ کو جمع کرنے سے منع نہیں فرمایا۔ آخر میں راوی کے الفاظ آتے ہیں کہ ایک شخص نے ان دونوں کے بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔ اس حدیث کا اصل موضوع سنت کے مقابلے میں ذاتی رائے نہیں، بلکہ حج و عمرہ جمع کرنے کے مسئلے میں نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو بنیاد بنانا ہے۔ اس میں حج قران، حج تمتع، حج و عمرہ ایک ساتھ، اور سنت نبوی جیسے اہم الفاظ آتے ہیں۔ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ جب کوئی عمل نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہو اور اس کے منع کی بات نہ ہو تو آدمی کو محض رائے سے اسے رد نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کیا۔
- حدیث میں بتایا گیا کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا۔
- دینی مسئلے میں ذاتی رائے کو سنت پر مقدم نہیں کیا جاتا۔
- حج کے احکام میں روایت کی پابندی ضروری ہے۔
