سنن نسائی حدیث ۲۷۳۵ - رسول صلى الله عليه وسلم نے تمتع کیا
حج تمتع: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اور صحابہ کا عمل
سنن نسائی : ۲۷۳۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۳۵
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ , وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ : لَا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ تَعَالَى ، فَقَالَ سَعْدٌ : " بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي ، قَالَ الضَّحَّاكُ : " فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نَهَى عَنْ ذَلِكَ " , قَالَ سَعْدٌ : " قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ " .
محمد بن عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب روایت:
´محمد بن عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب کہتے ہیں کہ` انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہما کو جس سال معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے حج کیا تمتع کا یعنی عمر رضی اللہ عنہ کے بعد حج کرنے کا ذکر کرتے سنا، ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے وہی کرے گا، جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو گا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھتیجے! بری بات ہے، جو تم نے کہی، تو ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تو اس سے روکا ہے اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور آپ کے ساتھ ہم لوگوں نے بھی کیا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں محمد بن عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہما کو تمتع کا ذکر کرتے سنا۔ ضحاک رضی اللہ عنہ نے سخت بات کہی کہ اسے وہی کرے گا جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو گا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے اس بات کو ناپسند کیا اور فرمایا: میرے بھتیجے! تم نے بری بات کہی۔ جب ضحاک رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کے منع کرنے کا ذکر کیا تو سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اسے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کیا ہے اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ کیا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام حج تمتع کی دلیل اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے عمل کو ماننا ہے۔ یہاں حج تمتع، عمرہ سے حج، صحابہ کا عمل، اور سنت کی پیروی واضح طور پر سامنے آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سعد رضی اللہ عنہ نے تمتع کو نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت کیا۔
- کسی دینی عمل پر سخت حکم لگانے سے پہلے دلیل دیکھنی چاہیے۔
- صحابہ اپنے عمل کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نسبت دیتے تھے۔
- سنت معلوم ہو تو بات نرمی اور دلیل سے واضح کی جاتی ہے۔
