سنن نسائی حدیث ۲۷۳۷ - کتاب اللہ میں تمتع کا ذکر
حج میں عمرہ: کتاب اللہ اور نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل
سنن نسائی : ۲۷۳۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۳۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبِي ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُتْعَةِ , وَإِنَّهَا لَفِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَلَقَدْ فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " , يَعْنِي : الْعُمْرَةَ فِي الْحَجِّ .
عبداللہ بن عباس روایت:
میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: قسم اللہ کی! میں تمہیں متعہ سے یعنی حج میں عمرہ کرنے سے روک رہا ہوں، حالانکہ وہ کتاب اللہ میں موجود ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: اللہ کی قسم! میں تمہیں متعہ، یعنی حج میں عمرہ کرنے سے روک رہا ہوں، حالانکہ وہ کتاب اللہ میں موجود ہے، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسے کیا ہے۔ حدیث کے الفاظ بہت صاف ہیں۔ اس میں عمر رضی اللہ عنہ اپنے روکنے کا ذکر کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ یہ عمل کتاب اللہ میں ہے اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسے کیا۔ اس روایت کا مرکزی موضوع حج تمتع، عمرہ فی الحج، کتاب اللہ، اور سنت رسول صلى الله عليه وسلم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کا اقرار موجود تھا۔ حدیث کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے، یعنی متن میں جو بات آئی ہے وہی بیان کی جائے، بغیر غیر ضروری بحث کے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں عمر رضی اللہ عنہ نے تمتع کے کتاب اللہ میں ہونے کا ذکر کیا۔
- انہوں نے یہ بھی کہا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسے کیا۔
- حج میں عمرہ کرنے کا مسئلہ اس روایت کا اصل موضوع ہے۔
- متن کے الفاظ کو احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔
