سنن نسائی حدیث ۲۷۲۹ - ہم نے نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تمتع کیا
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ حج تمتع کرنے کی روایت
سنن نسائی : ۲۷۲۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۲۹
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ ثَلَاثَةٌ هَذَا أَحَدُهُمْ لَا بَأْسَ بِهِ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ شَيْخٌ يَرْوِي عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ لَا بَأْسَ بِهِ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ يَرْوِي عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وَالْحَسَنُ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ .
مطرف بن عبداللہ روایت:
مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج) تمتع کیا، ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں کہ اسماعیل بن مسلم نام کے تین لوگ ہیں، یہ اسماعیل بن مسلم (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) انہیں تینوں میں سے ایک ہیں، ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور (دوسرے) اسماعیل بن مسلم ایک شیخ ہیں جو ابوالطفیل سے روایت کرتے ہیں ان سے بھی حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور تیسرے اسماعیل بن مسلم ہیں جو زہری اور حسن سے روایت کرتے ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں مطرف بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تمتع کیا۔ روایت کے بعد امام نسائی نے اسماعیل بن مسلم نامی راویوں کے بارے میں وضاحت بھی کی ہے کہ اس نام کے تین لوگ ہیں، اور ان میں فرق ہے۔ اصل حدیث کا مضمون حج تمتع ہے، یعنی عمرہ کو حج کے ساتھ جوڑنے کا عمل۔ اس روایت میں لمبی تفصیل نہیں، صرف اتنی بات ہے کہ صحابہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تمتع کیا۔ اس لیے اس کی توضیح بھی اسی حد تک رہنی چاہیے۔ حج تمتع کی حدیث، تمتع مع رسول اللہ، اور حج میں عمرہ جیسے سرچ الفاظ اس روایت کے لیے مناسب ہیں۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ صحابہ اپنے عمل کو نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نسبت دے کر بیان کرتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تمتع کرنے کا ذکر کیا۔
- حدیث میں حج تمتع کا عمل مختصر انداز میں آیا ہے۔
- راویوں کی شناخت حدیث کے علم میں اہم ہوتی ہے۔
- صحابہ اپنے حج کے عمل کو نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کے ساتھ بیان کرتے تھے۔
