سنن نسائی حدیث ۲۷۳۳ - حجۃ الوداع میں تمتع کا طریقہ
حجۃ الوداع میں حج تمتع اور ہدی کا مکمل بیان
سنن نسائی : ۲۷۳۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۳۳
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، وَأَهْدَى ، وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ ، وَتَمَتَّعَ النَّاسُ ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى ، فَسَاقَ الْهَدْيَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْد ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، قَالَ لِلنَّاسِ : مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَلْيُقَصِّرْ ، وَلْيَحْلِلْ ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ ثُمَّ لِيُهْدِ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا ، فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ " , فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ ، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ ، ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْع ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ، ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ ، فَصَلَّى عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَانْصَرَفَ ، فَأَتَى الصَّفَا ، فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ ، وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں تمتع کیا ۱؎ یعنی پہلے عمرہ کیا پھر حج کیا اور ہدی بھیجی، بلکہ اپنے ساتھ ذوالحلیفہ سے ہدی لے گئے (وہاں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عمرہ کا تلبیہ پکارا پھر حج کا تلبیہ پکارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی تمتع کیا، یعنی عمرے کا احرام باندھا پھر حج کا۔ البتہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے ہدی بھیجی اور اپنے ساتھ بھی لیے گئے، اور کچھ لوگ ایسے تھے جو ہدی نہیں لے گئے تھے۔تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”جو لوگ اپنے ساتھ ہدی لے کر آئے ہیں وہ جب تک حج پورا نہ کر لیں کسی بھی چیز سے جو ان پر حرام ہیں حلال نہ ہو) اور جو ہدی ساتھ لے کر نہیں آئے ہیں تو وہ خانہ کعبہ کا طواف کریں اور صفا و مروہ کی سعی کریں، اور بال کتروائیں اور احرام کھول ڈالیں۔ پھر (اٹھویں ذی الحجہ کو) حج کا احرام باندھے پھر ہدی دے اور جسے ہدی میسر نہ ہو تو وہ حج میں تین دن روزے رکھے، اور سات دن اپنے گھر واپس پہنچ جائیں تب رکھیں“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پہنچ کر طواف کیا، اور سب سے پہلے حجر اسود کا بوسہ لیا پھر سات پھیروں میں سے پہلے تین پھیروں میں دوڑ کر چلے ۲؎، باقی چار پھیرے عام رفتار سے چلے۔پھر جس وقت بیت اللہ کا طواف پورا کر لیا، تو مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا۔ اور نماز سے فارغ ہو کر صفا آئے اور صفا اور مروہ کے درمیان سات پھیرے کیے۔ پھر جو چیزیں حرام ہو گئی تھیں ان میں سے کسی چیز سے بھی حلال نہیں ہوئے یہاں تک کہ اپنے حج کو مکمل کیا اور یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو اپنے ہدی کی نحر کی (جانور ذبح کئے) اور منیٰ سے لوٹ کر مکہ آئے، پھر خانہ کعبہ کا طواف کیا پھر جو چیزیں حرام ہو گئی تھیں ان سب سے حلال ہو گئے، اور لوگوں میں سے جو ہدی (کا جانور) لے کر گئے تھے، انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۳۳ کا خلاصہ
اس طویل حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حج کا اہم حصہ بیان کیا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے عمرہ سے حج تک تمتع کیا، ہدی ساتھ لے گئے، پہلے عمرہ کا تلبیہ کہا پھر حج کا تلبیہ کہا۔ لوگوں میں کچھ ہدی ساتھ لائے تھے اور کچھ نہیں لائے تھے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس ہدی ہو وہ حج مکمل ہونے تک احرام سے حلال نہ ہو، اور جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ بیت اللہ کا طواف کرے، صفا مروہ کی سعی کرے، بال کٹوائے اور احرام کھول دے، پھر حج کا احرام باندھے۔ جسے ہدی نہ ملے وہ تین روزے حج میں اور سات گھر واپس جا کر رکھے۔ اس حدیث میں حج تمتع، ہدی، طواف، سعی، صفا مروہ، تقصیر اور یوم النحر کے احکام واضح انداز میں آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہدی ساتھ ہو تو احرام سے حلال ہونے کا حکم الگ ہے۔
- ہدی نہ ہو تو طواف، سعی اور تقصیر کے بعد احرام کھولا جا سکتا ہے۔
- جسے ہدی نہ ملے وہ حدیث کے مطابق روزے رکھے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے حجۃ الوداع میں عمل کر کے لوگوں کو طریقہ سکھایا۔
