سنن نسائی حدیث ۲۷۵۷ - ذوالحلیفہ سے بیداء تک خاموشی
ذوالحلیفہ، نماز اور بیداء تک خاموشی
سنن نسائی : ۲۷۵۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۵۷
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، " فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ صَلَّى وَهُوَ صَامِتٌ ، حَتَّى أَتَى الْبَيْدَاءَ " .
جابر روایت:
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے سلسلے میں جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے (ظہر کی) نماز پڑھی، اور آپ خاموش رہے یہاں تک کہ بیداء آئے۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۵۷ کا خلاصہ
اس روایت میں جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا ایک حصہ بیان ہوا ہے۔ جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو نماز پڑھی، اور خاموش رہے یہاں تک کہ بیداء آئے۔ روایت مختصر ہے، مگر تلبیہ کے وقت سے متعلق بحث میں اسے اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسی سلسلے کی دوسری روایات میں ذوالحلیفہ، سواری کے کھڑے ہونے، اور بیداء کا ذکر ملتا ہے۔ یہاں اصل الفاظ یہ ہیں کہ آپ نے ذوالحلیفہ میں نماز پڑھی اور بیداء تک خاموش رہے۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے وقت تلبیہ کب شروع کریں، ذوالحلیفہ سے تلبیہ، اور بیداء میں تلبیہ جیسے موضوعات ذہن میں آتے ہیں۔ مگر روایت میں جو بات ہے، اسی کو بنیاد بنانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے مقامات صحابہ نے دقت سے نقل کیے۔
- ذوالحلیفہ میں نماز کا ذکر اس روایت میں صاف ہے۔
- روایت کے الفاظ کے مطابق بیداء تک خاموشی بیان ہوئی ہے۔
- تلبیہ کے وقت کو سمجھنے کے لیے متعلقہ روایات کو الگ الگ دیکھنا چاہیے۔
