سنن نسائی حدیث ۲۷۷ - مسجد سے سر نکال کر دھلوانا
اعتکاف میں مسجد سے سر نکال کر دھلوانا
سنن نسائی : ۲۷۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَذَكَرَ آخَرُ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُخْرِجُ إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ مُجَاوِرٌ ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سر مسجد سے میری طرف نکالتے، تو میں اسے دھوتی تھی اور میں حائضہ ہوتی تھی۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۷ کا خلاصہ
اس روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سر مسجد سے میری طرف نکالتے، تو میں اسے دھوتی تھی، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔ حدیث میں خاص طور پر یہ بات آئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے اور سر باہر نکالتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حیض کی حالت میں سر دھوتی تھیں۔ اس سے حائضہ عورت کے ہاتھ کی پاکی اور گھریلو خدمت کا مسئلہ واضح ہوتا ہے۔ یہ روایت اعتکاف، مسجد اور حیض کے ایک خاص عمل کو بیان کرتی ہے؛ اس لیے اس سے عام اور وسیع احکام نکالتے ہوئے متن کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں سر باہر نکال کر دھلواتے تھے۔
- حائضہ عورت کا ہاتھ ناپاک نہیں سمجھا گیا۔
- بیوی کی خدمت اور قربت حیض کی وجہ سے ختم نہیں ہوتی۔
- مسجد اور اعتکاف کے مسئلے میں حدیث کے الفاظ تک رہنا چاہیے۔
