سنن نسائی حدیث ۲۷۸ - حیض میں سر کی کنگھی
حیض میں شوہر کے سر میں کنگھی کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۷۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۷۸
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قالت : " كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ " .
عائشہ روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کرتی اور میں حائضہ ہوتی تھی۔
سنن نسائی حدیث ۲۷۸ کا خلاصہ
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کرتی تھی، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔ یہ روایت بہت سادہ اور عملی بات بتاتی ہے۔ حیض کی حالت میں عورت عبادت کے کچھ خاص احکام سے گزرتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا ہاتھ یا جسم عام طور پر ناپاک سمجھا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کرنے کا عمل اس بات کو واضح کرتا ہے کہ گھریلو خدمت اور پاکیزہ قربت باقی رہتی ہے۔ اس حدیث کو حائضہ عورت، کنگھی اور طہارت کے موضوع پر سمجھا جاتا ہے، لیکن اس میں صرف اسی عمل کا ذکر ہے؛ اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حائضہ عورت کا ہاتھ ناپاک نہیں ہوتا۔
- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حیض میں بھی سر میں کنگھی کرتی تھیں۔
- گھریلو خدمت حیض کی وجہ سے ممنوع نہیں بتائی گئی۔
- حیض کے مسئلے میں غیر ضروری نفرت یا دوری درست نہیں۔
