صحیح بخاری حدیث ۲۰۴۶ - اعتکاف میں سر کنگھی کروانا

اعتکاف کے آداب: مسجد میں معتکف اور گھر سے خدمت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۴۶

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُف ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : " أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ ، وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ ، وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا يُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ " .

عائشہ روایت:

´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` وہ حائضہ ہوتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف میں ہوتے تھے، پھر بھی وہ آپ کے سر میں اپنے حجرہ ہی میں کنگھا کرتی تھیں۔ آپ اپنا سر مبارک ان کی طرف بڑھا دیتے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں اعتکاف کے دوران ایک عملی بات بیان ہوئی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہوتیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف میں ہوتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر ان کی طرف بڑھا دیتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے میں رہتے ہوئے آپ کے سر مبارک میں کنگھی کرتیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف کا مطلب یہ نہیں کہ ہر جائز ضرورت بالکل ختم ہو جائے۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق معتکف مسجد میں تھا، اور عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے میں تھیں۔ اس لیے یہ روایت اعتکاف کے آداب، ذاتی صفائی، اور جائز خدمت کے بارے میں آسان سمجھ دیتی ہے، بغیر اس کے کہ متن سے باہر کوئی بات بڑھائی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • معتکف مسجد میں رہتے ہوئے جائز ضرورت پوری کر سکتا ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف میں سادگی اور صفائی کو برقرار رکھا۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا حجرے میں رہ کر خدمت کرتی تھیں۔
  • حدیث میں حائضہ عورت کے حجرے میں رہنے کی صورت بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں