صحیح بخاری حدیث ۲۰۴۱ - اعتکاف میں نیت کی درستگی
اعتکاف کی حدیث: عبادت میں نیت اور سادگی کا سبق
صحیح بخاری : ۲۰۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۴۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانٍ ، وَإِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ دَخَلَ مَكَانَهُ الَّذِي اعْتَكَفَ فِيهِ ، قَالَ : فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ أَنْ تَعْتَكِفَ ، فَأَذِنَ لَهَا ، فَضَرَبَتْ فِيهِ قُبَّةً ، فَسَمِعَتْ بِهَا حَفْصَةُ ، فَضَرَبَتْ قُبَّةً ، وَسَمِعَتْ زَيْنَبُ بِهَا ، فَضَرَبَتْ قُبَّةً أُخْرَى ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَدَاةِ ، أَبْصَرَ أَرْبَعَ قِبَابٍ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَأُخْبِرَ خَبَرَهُنَّ ، فَقَالَ : مَا حَمَلَهُنَّ عَلَى هَذَا آلْبِرُّ ، انْزِعُوهَا فَلَا أَرَاهَا ، فَنُزِعَتْ فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ ، حَتَّى اعْتَكَفَ فِي آخِرِ الْعَشْرِ مِنْ شَوَّالٍ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں اعتکاف کیا کرتے۔ آپ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد اس جگہ جاتے جہاں آپ کو اعتکاف کے لیے بیٹھنا ہوتا۔ راوی نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ سے اعتکاف کرنے کی اجازت چاہی۔ آپ نے انہیں اجازت دے دی، اس لیے انہوں نے (اپنے لیے بھی مسجد میں) ایک خیمہ لگا لیا۔ حفصہ رضی اللہ عنہا (زوجہ مطہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) نے سنا تو انہوں نے بھی ایک خیمہ لگا لیا۔ زینب رضی اللہ عنہا (زوجہ مطہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) نے سنا تو انہوں نے بھی ایک خیمہ لگا لیا۔صبح کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر لوٹے تو چار خیمے دیکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقت حال کی اطلاع دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں نے ثواب کی نیت سے یہ نہیں کیا، (بلکہ صرف ایک دوسری کی ریس سے یہ کیا ہے) انہیں اکھاڑ دو۔ میں انہیں اچھا نہیں سمجھتا، چنانچہ وہ اکھاڑ دیئے گئے اور آپ نے بھی (اس سال) رمضان میں اعتکاف نہیں کیا۔ بلکہ شوال کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۴۱ کا خلاصہ
یہ حدیث رمضان کے اعتکاف کے بارے میں بہت اہم بات سمجھاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں اعتکاف کیا کرتے تھے، اور فجر کی نماز کے بعد اپنی اعتکاف والی جگہ تشریف لے جاتے۔ جب امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن نے خیمے لگائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ جب بات بتائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اکھاڑ دو، اور اس سال رمضان میں اعتکاف نہ کیا بلکہ شوال کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ اعتکاف، رمضان کی عبادت، اور نیکی کا کام مقابلہ یا ریس کی نیت سے نہیں ہونا چاہیے۔ عبادت میں دل کی کیفیت بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اعتکاف ایک ثابت عبادت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں کیا کرتے تھے۔
- نیکی کے کام میں نیت درست رکھنا ضروری ہے۔
- عبادت کو مقابلہ یا دکھاوے کی صورت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر عملی تربیت دی۔
