صحیح بخاری حدیث ۲۰۴۵ - اعتکاف میں خالص نیت

اعتکاف میں خالص نیت: امہات المؤمنین کے خیموں کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۴۵

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ : " أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ فَأَذِنَ لَهَا ، وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا ، فَفَعَلَتْ ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ أَمَرَتْ بِبِنَاءٍ فَبُنِيَ لَهَا ، قَالَتْ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى انْصَرَفَ إِلَى بِنَائِهِ فَبَصُرَ بِالْأَبْنِيَةِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : بِنَاءُ عَائِشَةَ ، وَحَفْصَةَ ، وَزَيْنَبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آلْبِرَّ أَرَدْنَ بِهَذَا ، مَا أَنَا بِمُعْتَكِفٍ فَرَجَعَ ، فَلَمَّا أَفْطَرَ ، اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کے لیے ذکر کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی۔ آپ نے انہیں اجازت دے دی، پھر حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ان کے لیے بھی اجازت لے دیں چنانچہ انہوں نے ایسا کر دیا۔ جب زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے بھی خیمہ لگانے کے لیے کہا، اور ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا۔انہوں نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے بعد اپنے خیمہ میں تشریف لے جاتے آج آپ کو بہت خیمے دکھائی دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عائشہ، حفصہ، اور زینب رضی اللہ عنھن کے خیمے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، بھلا کیا ان کی ثواب کی نیت ہے اب میں بھی اعتکاف نہیں کروں گا۔ پھر جب ماہ رمضان ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں اعتکاف کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۴۵ کا خلاصہ

یہ حدیث رمضان کے آخری عشرے کے اعتکاف سے متعلق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کا ارادہ فرمایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی، پھر حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے اجازت لی گئی، اور زینب رضی اللہ عنہا نے بھی خیمہ لگوا لیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی خیمے دیکھے تو پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ بتایا گیا کہ یہ عائشہ، حفصہ اور زینب رضی اللہ عنہن کے خیمے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا انہوں نے اس سے نیکی کا ارادہ کیا ہے، پھر آپ نے اس وقت اعتکاف نہ کیا اور رمضان کے بعد شوال میں اعتکاف کیا۔ یہ حدیث اعتکاف، نیت، اور عبادت کی سادگی کا اہم سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اعتکاف میں اجازت اور نظم کا خیال رکھا گیا۔
  • عبادت کی اصل روح نیکی کی نیت ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت کے لیے عملی فیصلہ فرمایا۔
  • رمضان میں رہ جانے والا اعتکاف شوال میں کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں