سنن نسائی حدیث ۲۹۲۶ - طواف میں گفتگو کم رکھیں

طواف میں کم گفتگو کیوں ضروری ہے؟

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۲۶

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " أَقِلُّوا الْكَلَامَ فِي الطَّوَافِ ، فَإِنَّمَا أَنْتُمْ فِي الصَّلَاةِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

طواف کے دوران باتیں کم کرو کیونکہ تم نماز میں ہو۔

سنن نسائی حدیث ۲۹۲۶ کا خلاصہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول طواف کے ادب کو بہت آسان الفاظ میں سمجھاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ طواف کے دوران باتیں کم کرو، کیونکہ تم نماز میں ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طواف میں انسان کو اپنے دل، زبان اور عمل کو عبادت کے مناسب رکھنا چاہیے۔ یہاں طواف کعبہ کو نماز جیسی سنجیدگی کے ساتھ ادا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ طواف میں گفتگو مکمل طور پر ختم کرنے کا حکم اس متن میں نہیں، بلکہ باتیں کم کرنے کی نصیحت ہے۔ اس لیے حاجی یا عمرہ کرنے والا شخص طواف کے دوران زیادہ توجہ، کم کلامی اور ادب اختیار کرے۔ یہ حدیث طواف کے آداب، عبادت میں خشوع اور بیت اللہ کے احترام سے جڑی ہوئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • طواف میں غیر ضروری گفتگو کم کرنی چاہیے۔
  • طواف کو نماز جیسی سنجیدہ عبادت سمجھنا چاہیے۔
  • عبادت کے دوران زبان پر قابو رکھنا بہتر ہے۔
  • بیت اللہ کے طواف میں ادب اور توجہ کا خیال رکھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں