سنن نسائی حدیث ۲۹۲۸ - بیماری میں سوار ہو کر طواف
بیمار شخص کے لیے سوار ہو کر طواف
سنن نسائی : ۲۹۲۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۲۸
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَشْتَكِي ، فَقَالَ : " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ، فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ ، يَقْرَأُ ب : والطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ " .
ام سلمہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۲۸ کا خلاصہ
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیماری کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو۔ انہوں نے اسی طرح طواف کیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور سورہ طور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ اس حدیث میں بیماری، طواف اور آسانی کا صاف سبق ہے۔ عبادت میں اصل مقصد اللہ کی اطاعت ہے، اور جب کوئی شخص بیمار ہو تو اس کے لیے مناسب آسانی دی جا سکتی ہے۔ یہاں سوار ہو کر طواف، بیمار کا طواف، طواف کے آداب اور نمازیوں کے پیچھے سے گزرنے کی ترتیب کا ذکر ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیمار شخص کے لیے طواف میں آسانی رکھی گئی ہے۔
- سوار ہو کر طواف کرنا ضرورت کے وقت جائز طریقہ ہو سکتا ہے۔
- طواف کرتے وقت لوگوں کے پیچھے رہنا نظم اور ادب کا حصہ ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی حالت کا خیال رکھا۔
