سنن نسائی حدیث ۲۹۲۹ - طواف خروج میں آسانی

طواف خروج میں بیمار کے لیے آسان راستہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۲۹

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا طُفْتُ طَوَافَ الْخُرُوجِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَطُوفِي عَلَى بَعِيرِكِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ " , عُرْوَةُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ .

ام سلمہ روایت:

´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے تو واپسی کا طواف نہیں کیا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی کر دی جائے، تو تم اپنے اونٹ پر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لو“۔ عبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عروہ کا ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں ہے۔

سنن نسائی حدیث ۲۹۲۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ انہوں نے واپسی کا طواف نہیں کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کھڑی کر دی جائے تو تم اپنے اونٹ پر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لو۔ اس روایت میں طواف خروج، بیماری یا عذر کی حالت، اور لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کرنے کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت میں ترتیب اور لوگوں کی سہولت کا خیال رکھا گیا۔ طواف کرتے ہوئے نمازیوں کے آگے خلل ڈالنے کے بجائے پیچھے سے گزرنے کی بات آئی۔ آخر میں نسائی کا یہ نوٹ بھی نقل ہوا ہے کہ عروہ کا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عذر کی حالت میں طواف کے لیے مناسب آسانی دی جا سکتی ہے۔
  • نماز قائم ہو تو طواف میں لوگوں کے پیچھے رہنے کی ہدایت آئی ہے۔
  • طواف خروج کا معاملہ بھی ادب اور ترتیب کے ساتھ کیا جائے۔
  • روایت کے ساتھ محدث کا سندی نوٹ بھی امانت کے طور پر نقل کیا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں