سنن نسائی حدیث ۲۹۳۱ - اونٹ پر طواف اور استلام
اونٹ پر طواف اور حجر اسود کا استلام
سنن نسائی : ۲۹۳۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۳۱
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاق ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْكَعْبَةِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر کعبہ کے گرد طواف کیا، آپ اپنی خمدار چھڑی سے حجر اسود کا استلام (چھونا) کر رہے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۳۱ کا خلاصہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر کعبہ کے گرد طواف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خمدار چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔ اس حدیث میں سوار ہو کر طواف، حجر اسود کا استلام اور حجۃ الوداع کے عمل کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طواف پیدل بھی ہو سکتا ہے اور ضرورت یا مصلحت کے تحت سوار ہو کر بھی کیا گیا۔ حجر اسود کو چھونے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے بجائے چھڑی استعمال کی۔ یہ روایت طواف کعبہ، استلام حجر اسود، حج کے طریقے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونے سے متعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں سوار ہو کر طواف کیا۔
- حجر اسود کا استلام چھڑی کے ذریعے بھی روایت میں آیا ہے۔
- طواف کے طریقے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اصل نمونہ ہے۔
- عبادت میں آسانی اور ترتیب دونوں کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔
