سنن نسائی حدیث ۲۹۳۲ - احرام حج میں طواف اور سعی
حج کے احرام کے بعد طواف اور سعی
سنن نسائی : ۲۹۳۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۳۲
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ , عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَيَانٌ ، أَنَّ وَبَرَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ ؟ قَالَ : وَمَا يَمْنَعُكَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ وَأَنْتَ أَعْجَبُ إِلَيْنَا مِنْهُ ، قَالَ : " رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ " .
وبرہ روایت:
میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا اس حال میں کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے حج کا احرام باندھ رکھا ہے، تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کروں؟ تمہیں کیا چیز روک رہی ہے؟ اس نے کہا: میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس سے روکتے دیکھا ہے، لیکن آپ ہمیں ان سے زیادہ پسند ہیں انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے حج کا احرام باندھا پھر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں نے حج کا احرام باندھا ہے، کیا بیت اللہ کا طواف کروں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز روک رہی ہے؟ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی۔ اس حدیث میں حج کا احرام، طواف کعبہ اور صفا مروہ کی سعی ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اختلافی بات کا جواب اپنی رائے سے نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے دیا۔ یہی اس روایت کا اصل سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج کے احرام کے بعد طواف اور سعی کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں آیا ہے۔
- دینی سوال کا جواب سنت کی بنیاد پر دینا چاہیے۔
- طواف کے بعد صفا و مروہ کی سعی حج کے عمل میں بیان ہوئی ہے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو دلیل بناتے تھے۔
