سنن نسائی حدیث ۲۹۳۴ - حج و عمرہ کا ایک ساتھ احرام
حج و عمرہ ایک ساتھ اور احرام کھولنے کا حکم
سنن نسائی : ۲۹۳۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۳۴
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ فَلَمَّا بَلَغَ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا ، فَأَهْلَلْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَطُفْنَا ، أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَحِلُّوا فَهَابَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ " , فَحَلَّ الْقَوْمُ ، حَتَّى حَلُّوا إِلَى النِّسَاءِ ، وَلَمْ يَحِلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يُقَصِّرْ إِلَى يَوْمِ النَّحْرِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب وہ بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارا، ہم نے بھی آپ کے ساتھ تلبیہ پکارا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے، اور ہم نے طواف کر لیا تو آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہو جائیں۔ تو لوگ ڈرے (کہ یہ کیا بات ہوئی کہ خود تو آپ نے احرام نہیں کھولا ہے، اور ہمیں کھول ڈالنے کا حکم دے رہے ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر ہمارے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی احرام کھول ڈالتا“، تو سب لوگ (احرام کھول کر) حلال ہو گئے یہاں تک کہ بیویوں کے لیے بھی حلال ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن (یعنی دسویں ذی الحجہ) تک حلال نہیں ہوئے اور نہ ہی آپ نے بال کتروائے۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۳۴ کا خلاصہ
انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر حج کا ایک حصہ بیان ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچے، ظہر پڑھی، پھر سواری پر سوار ہوئے، اور بیداء میں حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا۔ صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ تلبیہ کہا۔ مکہ پہنچ کر طواف کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو احرام کھول کر حلال ہونے کا حکم دیا۔ لوگوں کو جھجک ہوئی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود احرام نہیں کھولا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی احرام کھول دیتا۔ پھر لوگ حلال ہو گئے، جبکہ آپ قربانی کے دن تک حلال نہیں ہوئے اور بال بھی نہیں کتروائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ ایک ساتھ کہا۔
- ہدی ساتھ ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باقی رکھا۔
- صحابہ کو حکم ملنے پر احرام کھولنے کی اجازت دی گئی۔
- عبادت کے عمل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو سمجھ کر ماننا چاہیے۔
