سنن نسائی حدیث ۲۹۳۵ - حج و عمرہ کے لیے ایک طواف

حج و عمرہ ملانے پر ایک طواف

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۳۵

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، " قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ، فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا , وَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` انہوں نے حج و عمرہ کو ایک ساتھ ملایا، اور (ان دونوں کے لیے) ایک ہی طواف کیا، اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔

سنن نسائی حدیث ۲۹۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کا ذکر ہے کہ انہوں نے حج اور عمرہ کو ایک ساتھ ملایا، پھر دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع حج قران، حج و عمرہ کو جمع کرنا، اور ایک طواف کا بیان ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا عمل کسی ذاتی انداز پر نہیں رکھا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاہدہ شدہ عمل کو دلیل بنایا۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ حج و عمرہ کے مسائل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سنت کی پیروی کو بہت اہم سمجھتے تھے۔ یہاں بات صرف اسی عمل تک محدود ہے جو روایت میں بیان ہوا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج اور عمرہ کو ایک ساتھ ملانے کا عمل روایت میں آیا ہے۔
  • ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک طواف کیا اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا۔
  • حج کے طریقے میں سنت کی پیروی اصل رہنمائی ہے۔
  • دینی عمل کی بنیاد مشاہدہ شدہ سنت پر رکھنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں