سنن نسائی حدیث ۲۹۴۰ - حجر اسود اور سنت کی پیروی
حجر اسود کو بوسہ دینا صرف سنت کی وجہ سے
سنن نسائی : ۲۹۴۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۴۰
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَجَرِيرٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ ، ثُمَّ دَنَا مِنْهُ فَقَبَّلَهُ " .
عابس بن ربیعہ روایت:
میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور کہا: میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا، پھر وہ اس سے قریب ہوئے، اور اسے بوسہ لیا۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۴۰ کا خلاصہ
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ حجر اسود کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے، اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ لیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا۔ پھر وہ قریب ہوئے اور اسے بوسہ دیا۔ اس حدیث کا اصل سبق بہت صاف ہے: حجر اسود کو بوسہ دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ہے، نہ کہ پتھر کو مستقل نفع دینے والا سمجھ کر۔ یہ روایت حجر اسود، استلام، بوسہ، توحید اور اتباع سنت کے موضوعات سے جڑی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عمل بھی کیا اور اس عمل کی وجہ بھی واضح کر دی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حجر اسود کو بوسہ دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی ہے۔
- عمر رضی اللہ عنہ نے واضح کیا کہ حجر اسود بذات خود پتھر ہے۔
- عبادت میں محبت کے ساتھ صحیح عقیدہ بھی ضروری ہے۔
- سنت ثابت ہو تو مسلمان اسے ادب کے ساتھ اپناتا ہے۔
