سنن نسائی حدیث ۲۹۳۹ - حجر اسود سے محبت کا عمل
حجر اسود کو بوسہ دینا نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی
سنن نسائی : ۲۹۳۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۳۹
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، أَنَّ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَالْتَزَمَهُ ، وَقَالَ : " رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا " .
سوید بن غفلہ روایت:
عمر رضی اللہ عنہما نے (حجر اسود) کا بوسہ لیا، اور اس سے چمٹے، اور کہا: میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھ پر مہربان دیکھا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۳۹ کا خلاصہ
اس روایت میں سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کا بوسہ لیا، اس سے چمٹے، اور کہا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھ پر مہربان دیکھا ہے۔ اس حدیث میں حجر اسود کے ساتھ عمر رضی اللہ عنہ کا عمل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی پیروی کا پہلو سامنے آتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ صحابی نے حجر اسود کو اپنی طرف سے خاص مقام دے کر نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو دیکھ کر عزت دی۔ حجر اسود کا بوسہ، استلام حجر اسود، اور سنت کی پیروی اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔ اس میں دعا یا نفع نقصان مانگنے کا ذکر نہیں، صرف بوسہ اور التزام کا عمل نقل ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حجر اسود کو بوسہ دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں کیا گیا۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عبادت میں سنت کو بنیاد بناتے تھے۔
- حجر اسود سے متعلق عمل محبت اور اتباع کے ساتھ تھا۔
- حدیث میں صرف وہی بات بیان کی جائے جو متن میں آئی ہے۔
