سنن نسائی حدیث ۲۹۳۸ - حجر اسود جنت کا پتھر
حجر اسود جنت کا پتھر ہے
سنن نسائی : ۲۹۳۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۳۸
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حجر اسود جنت کا پتھر ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۳۸ کا خلاصہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر مگر بہت معروف فرمان نقل ہوا ہے کہ حجر اسود جنت کا پتھر ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع حجر اسود کی فضیلت ہے۔ متن میں صرف اتنی بات بیان ہوئی ہے، اس لیے اسی پر رکنا درست ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حجر اسود عام پتھروں جیسا نہیں، بلکہ اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص نسبت بیان فرمائی۔ تاہم اس حدیث میں اس سے نفع یا نقصان مانگنے کی بات نہیں آئی۔ قریب کی روایات میں عمر رضی اللہ عنہ کا عمل بھی آتا ہے کہ انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حجر اسود کے بارے میں حدیث میں جنت کی نسبت بیان ہوئی ہے۔
- حجر اسود کی فضیلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ثابت ہے۔
- حدیث کے الفاظ سے آگے دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔
- حجر اسود سے متعلق عمل سنت کی پیروی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
