سنن نسائی حدیث ۲۹۵۳ - ابن عمرؓ اور دو یمانی رکن
ابن عمرؓ کا جواب: استلام صرف دو یمانی رکنوں کا
سنن نسائی : ۲۹۵۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۵۳
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، وَمَالِكٍ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : " رَأَيْتُكَ لَا تَسْتَلِمُ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ " , قَالَ : " لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ " , مُخْتَصَرٌ .
عبید بن جریج روایت:
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے آپ کو کعبہ کے چاروں ارکان میں سے صرف انہیں دونوں یمانی (رکن یمانی اور حجر اسود) کا استلام کرتے دیکھا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں رکنوں کے علاوہ کسی اور رکن کا استلام کرتے نہیں دیکھا، یہ حدیث مختصر ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۵۳ کا خلاصہ
اس مختصر روایت میں عبید بن جریج نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں نے آپ کو کعبہ کے چار ارکان میں سے صرف دو یمانی رکنوں کا استلام کرتے دیکھا ہے۔ ابن عمرؓ نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو ان دونوں رکنوں کے علاوہ کسی اور رکن کا استلام کرتے نہیں دیکھا۔ اس حدیث میں سوال اور جواب دونوں بہت صاف ہیں۔ ابن عمرؓ نے اپنے عمل کی وجہ کوئی ذاتی پسند نہیں بتائی، بلکہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو بنیاد بنایا۔ طواف، استلام، رکن یمانی، حجر اسود اور سنت کی پیروی اس حدیث کا اصل مضمون ہیں۔ یہ روایت اس بات کو مضبوط کرتی ہے کہ عبادت میں وہی طریقہ اہم ہے جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے دیکھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمرؓ نے دو یمانی رکنوں کے استلام کو نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت کیا۔
- چاروں ارکان میں سے صرف مخصوص دو کا ذکر آیا ہے۔
- صحابہؓ اپنے عمل کی نسبت سنت کی طرف کرتے تھے۔
- سوال کے جواب میں مشاہدہ شدہ سنت کو دلیل بنایا گیا۔
