سنن نسائی حدیث ۲۹۵۲ - دونوں یمانی رکنوں پر ہاتھ پھیرنا
دونوں یمانی رکن: طواف میں استلام کی حد
سنن نسائی : ۲۹۵۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۵۲
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں یمانی رکنوں کے علاوہ کسی اور چیز پر ہاتھ پھیرتے نہیں دیکھا۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۵۲ کا خلاصہ
اس روایت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے مشاہدے کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو بیت اللہ میں دونوں یمانی رکنوں کے علاوہ کسی اور چیز پر ہاتھ پھیرتے نہیں دیکھا۔ دونوں یمانی رکنوں سے مراد حجر اسود اور رکن یمانی ہیں۔ حدیث کا انداز بہت واضح ہے: ابن عمرؓ اپنی دیکھی ہوئی بات نقل کر رہے ہیں، اور اس سے طواف میں استلام کی حد سمجھ آتی ہے۔ اس حدیث میں نہ لمبا بیان ہے نہ اضافی حکم، بلکہ صرف نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی گواہی ہے۔ رکنین یمانیین، حجر اسود، رکن یمانی، استلام اور طواف کے آداب اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمرؓ نے صرف دونوں یمانی رکنوں پر ہاتھ پھیرنے کا مشاہدہ بیان کیا۔
- حدیث طواف میں استلام کی جگہوں کو محدود طور پر بتاتی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو صحابیؓ نے مشاہدے کی بنیاد پر نقل کیا۔
- عبادت میں اضافے کے بجائے ثابت عمل کی پیروی اہم ہے۔
