سنن نسائی حدیث ۲۹۶۴ - رمل، مقام ابراہیم اور سعی
طواف اور صفا مروہ کی سعی کا مکمل نبوی طریقہ
سنن نسائی : ۲۹۶۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۶۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، رَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا ، وَمَشَى أَرْبَعًا ، ثُمَّ قَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَرَأَ : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 , وَرَفَعَ صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَاسْتَلَمَ ، ثُمَّ ذَهَبَ ، فَقَالَ : نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا ، فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ ، فَقَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، فَكَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ ، ثُمَّ دَعَا بِمَا قُدِّرَ لَهُ ، ثُمَّ نَزَلَ مَاشِيًا حَتَّى تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ ، فَسَعَى حَتَّى صَعِدَتْ قَدَمَاهُ ، ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَصَعِدَ فِيهَا ، ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ ، فَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، قَالَ : ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ وَسَبَّحَهُ ، وَحَمِدَهُ ، ثُمَّ دَعَا عَلَيْهَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ ، فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ " .
جابر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے سات پھیرے کئے ان میں سے تین میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلے پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر دو رکعات پڑھیں، پھر آپ نے آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ“ پڑھی اور اپنی آواز بلند کی آپ لوگوں کو سنا رہے تھے۔پھر آپ وہاں سے پلٹے اور جا کر حجر اسود کا استلام کیا اور فرمایا: کہ ہم وہیں (سعی) شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے (اپنی کتاب میں) شروع کی ہے، تو آپ نے صفا سے سعی شروع کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین مرتبہ «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہا، پھر آپ نے اللہ کی تکبیر اور تحمید کی۔اور دعا کی جواب آپ کے لیے مقدر تھی، پھر آپ پیدل چل کر نیچے اترے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم وادی کے نشیب میں رہے پھر دوڑے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم بلندی پر چڑھے، پھر عام چال چلے یہاں تک کہ مروہ کے پاس آئے اور اس پر چڑھے پھر خانہ کعبہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» تین بار کہا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا اور اس کی تسبیح و تحمید کی۔ اور دعا کی جو اللہ کو منظور تھی ہر بار ایسا ہی کیا یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہوئے۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف اور سعی کا تفصیلی طریقہ بیان کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، پہلے تین میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلے۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی اور آیت پڑھی: مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔ اس کے بعد حجر اسود کا استلام کیا اور فرمایا کہ ہم اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ نے شروع کیا ہے، پھر صفا سے سعی شروع کی۔ صفا اور مروہ پر بیت اللہ کو دیکھ کر توحید کے کلمات، تکبیر، تحمید اور دعا کی گئی۔ حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ طواف، رمل، مقام ابراہیم کی نماز اور صفا مروہ کی سعی میں نبوی ترتیب کو سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طواف کے سات پھیروں میں تین رمل اور چار عام چال کا ذکر ہے۔
- طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی گئی۔
- صفا سے سعی شروع کی گئی کیونکہ اللہ نے اسی کا پہلے ذکر کیا۔
- صفا اور مروہ پر توحید، تکبیر، تحمید اور دعا کی گئی۔
