سنن نسائی حدیث ۲۹۶۶ - طواف کی دو رکعت میں قراءت
طواف کی دو رکعت میں کون سی سورتیں پڑھی گئیں؟
سنن نسائی : ۲۹۶۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۶۶
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا انْتَهَى إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ قَرَأَ : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَقَرَأَ : فَاتِحَةَ الْكِتَابِ , وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ , وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , ثُمَّ عَادَ إِلَى الرُّكْنِ ، فَاسْتَلَمَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مقام ابراہیم پر پہنچے تو آپ نے آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، تو اس میں آپ نے سورۃ فاتحہ اور «قل يا أيها الكافرون»، اور «قل هو اللہ أحد» پڑھی پھر آپ حجر اسود کے پاس آئے، اور آپ نے اس کا استلام کیا، پھر آپ صفا کی طرف نکلے۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مقام ابراہیم پر پہنچے تو آپ نے آیت پڑھی: مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی۔ اس نماز میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورہ کافرون اور سورہ اخلاص پڑھی۔ اس کے بعد آپ حجر اسود کے پاس واپس آئے، اس کا استلام کیا، پھر صفا کی طرف نکلے۔ اس روایت کا اصل موضوع طواف کی دو رکعت نماز اور اس میں پڑھی گئی قراءت ہے۔ یہ حدیث طواف کے بعد کی ترتیب بھی بتاتی ہے: مقام ابراہیم پر نماز، پھر حجر اسود کا استلام، پھر صفا کی طرف جانا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طواف کے بعد مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز پڑھی گئی۔
- اس نماز میں سورہ فاتحہ، سورہ کافرون اور سورہ اخلاص کا ذکر ہے۔
- نماز کے بعد حجر اسود کا استلام کیا گیا۔
- استلام کے بعد صفا کی طرف جانے کا عمل بیان ہوا۔
