سنن نسائی حدیث ۲۹۶۷ - کھڑے ہو کر زمزم پینا
زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پینے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۹۶۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۶۷
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ , وَمُغِيرَةُ . ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، وَهُوَ قَائِمٌ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔
سنن نسائی حدیث ۲۹۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔ روایت بہت مختصر ہے، اس لیے اس کے مطلب کو بھی اسی حد تک رکھنا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ زمزم کا پانی پینے کا ایک واقعہ بیان ہوا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔ اس حدیث سے زمزم، زمزم کا پانی، اور کھڑے ہو کر پینے کے الفاظ براہ راست ملتے ہیں۔ یہاں عام پانی پینے کے تمام آداب یا الگ مسائل بیان نہیں ہوئے، اس لیے اسی روایت کی حد میں رہتے ہوئے بات کی جائے گی۔ حج و عمرہ کے موقع پر زمزم پینے والے افراد کے لیے یہ حدیث ایک واضح مشاہدہ نقل کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی پیا۔
- اس واقعہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔
- حدیث مختصر ہے، اس لیے اس سے صرف بیان شدہ بات ہی لی جائے۔
- زمزم کے بارے میں صحابی کا مشاہدہ نقل کیا گیا ہے۔
