سنن نسائی حدیث ۲۹۷۱ - سعی چھوڑنے کی غلط تاویل

صفا مروہ کی سعی چھوڑنے کی تاویل کیوں غلط ہے؟

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۹۷۱

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 , فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطُوفَ بِالصَفَا وَالْمَرْوَةِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي ، إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا ، كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَلَكِنَّهَا نَزَلَتْ فِي الْأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا ، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 , ثُمَّ قَدْ " سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا ، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا " .

عروہ روایت:

میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے قول «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» کے متعلق پوچھا (میں نے کہا کہ اس سے تو پتا چلتا ہے کہ) کوئی صفا و مروہ کی سعی نہ کرے، تو قسم اللہ کی اس پر کوئی حرج نہیں، اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! تم نے نامناسب بات کہی ہے۔ اس آیت کا مطلب اگر وہی ہوتا جو تم نے نکالا ہے تو یہ آیت اس طرح اترتی «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» ”اگر کوئی صفا و مروہ کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں“۔ لیکن یہ آیت انصار کے بارے میں اتری ہے۔اسلام لانے سے پہلے وہ مشلل کے پاس مناۃ بت کے لیے احرام باندھتے تھے جس کی وہ عبادت کرتے تھے، اور جو مناۃ کے نام سے احرام باندھتا تھا وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج جانتا تھا تو جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت کریمہ: «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما» ”صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس سے بیت اللہ کا حج و عمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کر لینے میں کوئی گناہ نہیں“ اتاری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کی سعی کو مسنون قرار دیا۔ تو کسی کے لیے جائز و درست نہیں کہ ان دونوں کی سعی چھوڑ دے۔

سنن نسائی حدیث ۲۹۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں عروہ رحمہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت کے بارے میں پوچھا اور یہ سمجھا کہ صفا مروہ کی سعی نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ یہ نامناسب بات ہے۔ اگر آیت کا مطلب یہی ہوتا تو الفاظ یوں ہوتے کہ جو سعی نہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ پھر انہوں نے بتایا کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی، جو اسلام سے پہلے مناۃ کے نام پر احرام باندھتے تھے اور صفا مروہ کی سعی میں حرج سمجھتے تھے۔ جب انہوں نے پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی کو مسنون قرار دیا۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ سعی کو چھوڑنے کے لیے آیت کو دلیل بنانا درست نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کی آیت کا مطلب اہل علم صحابہ سے سمجھنا چاہیے۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے غلط فہم کی صاف اصلاح کی۔
  • صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان سعی کو مسنون قرار دیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں