سنن نسائی حدیث ۳۱۴۴ - اللہ کی راہ میں بڑھاپا نور ہے
اللہ کی راہ میں بڑھاپا قیامت کا نور
سنن نسائی : ۳۱۴۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۴۴
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ صَفْوَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ : يَا عَمْرُو : حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى بَلَغَ الْعَدُوَّ ، أَوْ لَمْ يَبْلُغْ كَانَ لَهُ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ ، وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، كَانَتْ لَهُ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ ، عُضْوًا بِعُضْوٍ " .
عمرو بن عبسہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں (جہاد کرتے کرتے) بوڑھا ہو گیا، تو یہ چیز قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گی، اور جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر بھی چلایا خواہ دشمن کو لگا ہو یا نہ لگا ہو تو یہ چیز اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے درجہ میں ہو گی۔ اور جس نے ایک مومن غلام آزاد کیا تو یہ آزاد کرنا اس کے ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات دلانے کا فدیہ بنے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں تین اعمال کا ذکر ہے۔ پہلا یہ کہ جو شخص اللہ کے راستے میں بوڑھا ہو گیا، اس کے لیے یہ بڑھاپا قیامت کے دن نور بنے گا۔ دوسرا یہ کہ جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر بھی چلایا، چاہے دشمن کو لگا یا نہ لگا، اسے غلام آزاد کرنے کے درجے کا اجر ملے گا۔ تیسرا یہ کہ جس نے ایک مومن غلام آزاد کیا، تو یہ آزادی اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم کی آگ سے نجات کا فدیہ بنے گی۔ حدیث کا انداز ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں گزری ہوئی عمر، کوشش اور مالی یا عملی قربانی کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہاں اصل بات اللہ کے راستے میں اخلاص کے ساتھ محنت کرنا ہے، خواہ عمل بظاہر چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں گزری ہوئی عمر قیامت کے دن نور بن سکتی ہے۔
- اللہ کے راستے میں کی گئی کوشش ضائع نہیں ہوتی۔
- مومن غلام آزاد کرنا آگ سے نجات کا سبب بتایا گیا ہے۔
- کبھی چھوٹا عمل بھی اللہ کے ہاں بڑا اجر رکھتا ہے۔
