سنن نسائی حدیث ۳۲۲۶ - لے پالک کی نسبت
لے پالک کی نسبت اصل باپ کی طرف
سنن نسائی : ۳۲۲۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۲۶
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، قَالَ : قَالَ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، وَأَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بن ربيعة , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَبَنَّى سَالِمًا وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ سَالِمًا ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ ابْنَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَكَانَتْ هِنْدُ بِنْتُ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ مِنْ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامَى قُرَيْشٍ ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ : ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 , رُدَّ كُلُّ أَحَدٍ يَنْتَمِي مِنْ أُولَئِكَ إِلَى أَبِيهِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ يُعْلَمُ أَبُوهُ رُدَّ إِلَى مَوَالِيهِ .
امہات المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ روایت:
ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ان لوگوں میں سے تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، انہوں نے ایک انصاری عورت کے غلام سالم کو اپنا لے پالک بنا لیا تھا۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا لے پالک بنایا تھا۔ ابوحذیفہ بن عتبہ نے سالم کا نکاح اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دیا تھا اور یہ ہند بنت ولید بن عتبہ شروع شروع کی مہاجرہ عورتوں میں سے تھیں، وہ قریش کی بیوہ عورتوں میں اس وقت سب سے افضل و برتر عورت تھیں۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے زید بن حارثہ (غلام) کے تعلق سے آیت: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند اللہ» ”لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے“ نازل فرمائی تو ہر ایک لے پالک اپنے اصل باپ کے نام سے پکارا جانے لگا، اور جن کے باپ نہ جانے جاتے انہیں ان کے آقاؤں کی طرف منسوب کر کے پکارتے۔
سنن نسائی حدیث ۳۲۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے سالم کے واقعے کی تفصیل آتی ہے۔ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے سالم کو اپنا لے پالک بنایا تھا، جیسے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا لے پالک بنایا تھا۔ پھر جب قرآن کی آیت نازل ہوئی کہ انہیں ان کے باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ، تو ہر لے پالک کو اس کے اصل باپ کی طرف لوٹا دیا گیا۔ جس کا باپ معلوم نہیں تھا، اسے اس کے موالی کی طرف منسوب کیا گیا۔ اس حدیث میں نکاح، خاندان اور نسب کے معاملے میں صاف بات بیان ہوئی ہے: محبت، تربیت اور مدد اپنی جگہ، مگر نسب کی نسبت حقیقت کے مطابق ہونی چاہیے۔ یہ خاندان کے حقوق اور معاشرتی انصاف کے لیے اہم اصول ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نسب کی نسبت اصل باپ کی طرف کرنا قرآنی حکم ہے۔
- کفالت اور محبت کی وجہ سے کسی کا اصل نسب تبدیل نہیں ہوتا۔
- جس کا باپ معلوم نہ ہو اسے موالی کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے۔
- خاندانی معاملات میں سچی نسبت کو اہم رکھا گیا ہے۔
