سنن نسائی حدیث ۳۲۲۷ - دنیا والوں کا حسب مال

دنیا والوں کے نزدیک مال ہی حسب بن جاتا ہے

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۲۲۷

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحْسَابَ أَهْلِ الدُّنْيَا الَّذِي يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ الْمَالُ " .

بریدہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا داروں کا حسب جس کی طرف وہ دوڑتے (اور لپکتے) ہیں مال ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۳۲۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ دنیا داروں کا حسب، جس کی طرف وہ جاتے ہیں، مال ہے۔ یہاں ایک مختصر مگر بہت معنی خیز بات کہی گئی ہے۔ دنیا داری کے ماحول میں لوگ خاندان، عزت، مرتبہ اور قدر کو اکثر مال سے ناپتے ہیں۔ جس کے پاس مال زیادہ ہو، لوگ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں اور اسے بڑا سمجھتے ہیں۔ حدیث کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ دنیا والوں کی دوڑ کا معیار مال بن جاتا ہے۔ اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ نکاح، رشتے اور معاشرتی معاملات میں مال کو حد سے زیادہ معیار بنانا درست سوچ نہیں۔ متن میں یہی بات ہے کہ اہل دنیا جس چیز کی طرف لپکتے ہیں وہ مال ہے، اس لیے مومن کو اپنے معیار پر غور کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دنیا دار سوچ میں مال کو عزت کا بڑا معیار بنا لیا جاتا ہے۔
  • رشتوں اور تعلقات میں صرف مال کو اصل معیار نہیں بنانا چاہیے۔
  • حدیث انسان کو اپنے دل کے معیار پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں