سنن نسائی حدیث ۳۹۰۰ - مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
سنن نسائی : ۳۹۰۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۹۰۰
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَرْضِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ عَرَفَ أَنَّهُ مُحْتَاجٌ ، فَقَالَ : " لِمَنْ هَذِهِ الْأَرْضُ ؟ " . قَالَ : لِفُلَانٍ , أَعْطَانِيهَا بِالْأَجْرِ . فَقَالَ : " لَوْ مَنَحَهَا أَخَاهُ " . فَأَتَى رَافِعٌ الْأَنْصَارَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا , وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ .
رافع بن خدیج روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک آدمی کی زمین کے پاس سے گزرے جسے آپ جانتے تھے کہ وہ ضرورت مند ہے، پھر فرمایا: ”یہ زمین کس کی ہے؟“ اس نے کہا: فلاں کی ہے، اس نے مجھے کرائے پر دی ہے، آپ نے فرمایا: ”اگر اس نے اسے اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پر دے دی ہوتی (تو اچھا ہوتا)“، تب رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے انصار کے پاس آ کر کہا بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو تمہارے لیے نفع بخش تھی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے سب سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔
