سنن نسائی حدیث ۳۹۳۷ - مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
سنن نسائی : ۳۹۳۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۹۳۷
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : كَانَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ : لَيْسَ بِاسْتِكْرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بَأْسٌ , وَكَانَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ ذَلِكَ " ، وَافَقَهُ عَلَى إِرْسَالِهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْحَارِثِ .
زہری روایت:
سعید بن مسیب کہتے تھے: سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرائے پر اٹھانے میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ عبدالکریم بن حارث نے اس کے مرسل ہونے میں ان کی موافقت کی ہے۔
