سنن نسائی حدیث ۵۷۷ - عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عصر کے بعد دو رکعت

عصر کے بعد دو رکعت: عائشہ رضی اللہ عنہا کی گواہی

سنن نسائیحدیث نمبر ۵۷۷

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قال : سَمِعْتُ مَسْرُوقًا ، وَالْأَسْوَدَ ، قَالَا : نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا كَانَ عِنْدِي بَعْدَ الْعَصْرِ صَلَّاهُمَا " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کے بعد میرے پاس ہوتے تو ان دونوں رکعتوں کو پڑھتے۔

سنن نسائی حدیث ۵۷۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں مسروق اور اسود کہتے ہیں کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے پاس عصر کے بعد ہوتے تو وہ دو رکعتیں پڑھتے۔ یہ روایت پچھلی روایات کے مضمون کو مزید واضح انداز سے نقل کرتی ہے۔ یہاں اصل موضوع عصر کے بعد دو رکعت ہے، نہ کہ تمام نفل نمازوں کا عام بیان۔ حدیث میں جو بات آئی ہے وہ ایک خاص عمل کا بیان ہے، اس لیے شرح میں بھی اسی حد کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ جب کوئی شخص عصر کے بعد نماز کے بارے میں سوال کرے تو اسے ممانعت والی احادیث اور عائشہ رضی اللہ عنہا والی روایات دونوں کو سامنے رکھ کر علمائے کرام سے مسئلہ سمجھنا چاہیے۔ متن ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی خبر دیتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے عصر کے بعد دو رکعتوں کا ذکر کیا۔
  • روایت میں گواہی کے انداز سے نقل موجود ہے۔
  • یہ حدیث خاص عمل بتاتی ہے، عمومی حکم تفصیل سے نہیں دیتی۔
  • ایسے مسائل میں متعلقہ روایات کو ساتھ سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں