سنن نسائی حدیث ۵۷۸ - فجر سے پہلے اور عصر کے بعد دو رکعتیں

دو نمازیں جو گھر میں بھی ترک نہ ہوئیں

سنن نسائیحدیث نمبر ۵۷۸

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : " صَلَاتَانِ مَا تَرَكَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً : رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعَصْرِ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں فجر کے پہلے کی دو رکعتوں اور عصر کے بعد کی دو رکعتوں کو چھپے اور کھلے کبھی نہیں چھوڑا۔

سنن نسائی حدیث ۵۷۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا دو نمازوں کا ذکر کرتی ہیں: فجر سے پہلے کی دو رکعتیں اور عصر کے بعد کی دو رکعتیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں انہیں نہ چھپ کر چھوڑا، نہ کھلے طور پر۔ متن میں دو الگ چیزیں ساتھ آئی ہیں۔ پہلی فجر سے پہلے کی دو رکعتیں، جن کا ذکر بہت معروف ہے۔ دوسری عصر کے بعد کی دو رکعتیں، جن کا ذکر اسی باب کی دوسری روایات میں بھی آیا ہے۔ اس حدیث کا مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے عمل کو بیان کرنا ہے۔ یہاں ہمیں الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے کہ روایت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے بارے میں ہے۔ ممنوع اوقات نماز اور عصر کے بعد دو رکعت کے موضوع پر یہ روایت اہم ہے، مگر اسے دیگر روایات کے ساتھ سمجھنا مناسب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فجر سے پہلے دو رکعتوں کا ذکر آیا ہے۔
  • عصر کے بعد دو رکعتوں کا عمل بھی بیان ہوا ہے۔
  • روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے معمول کو بتاتی ہے۔
  • متن میں موجود دونوں نمازوں کو الگ الگ سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں