سنن نسائی حدیث ۵۹۳ - جلدی سفر میں مغرب عشاء جمع
جلدی سفر میں مغرب اور عشاء جمع کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۵۹۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۹۳
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قال : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قال : أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا عَجِلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ ، يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کو سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب مؤخر کرتے یہاں تک کہ اس کو اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کرتے۔
سنن نسائی حدیث ۵۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ مغرب کو مؤخر کرتے، یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ جمع کر کے پڑھتے۔ روایت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام واضح ہے: سفر کی جلدی میں نماز کو ضائع نہیں کیا جاتا، بلکہ مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ادا کیا جاتا ہے۔ یہاں خاص طور پر مغرب اور عشاء کا ذکر ہے، ظہر و عصر کا نہیں۔ اس لیے اس حدیث سے یہی بات لی جائے گی کہ جب سفر میں چلنا تیز ہو اور رکنا مناسب نہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مغرب کو عشاء کے ساتھ جمع کرنا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر کی جلدی میں مغرب اور عشاء جمع کرنے کا ذکر ہے۔
- نماز کو چھوڑا نہیں گیا بلکہ مناسب وقت پر جمع کر کے ادا کیا گیا۔
- حدیث میں خاص طور پر مغرب کو مؤخر کرنے کا بیان ہے۔
- صحابی کا دیکھا ہوا عمل دینی رہنمائی کا اہم ذریعہ ہے۔
