سنن نسائی حدیث ۵۹۲ - مغرب اور عشاء سفر میں
سفر میں مغرب اور عشاء مؤخر کر کے پڑھنا
سنن نسائی : ۵۹۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۹۲
أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، قال : صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْحِمَى ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ هِبْتُ أَنْ أَقُولَ لَهُ الصَّلَاةَ ، " فَسَارَ حَتَّى ذَهَبَ بَيَاضُ الْأُفُقِ وَفَحْمَةُ الْعِشَاءِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ عَلَى إِثْرِهَا ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ " .
اسماعیل بن عبدالرحمٰن روایت:
میں حمی تک ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ رہا، جب سورج ڈوب گیا تو میں ڈرا کہ ان سے یہ کہوں کہ نماز پڑھ لیجئیے، چنانچہ وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ افق کی سفیدی اور ابتدائی رات کی تاریکی ختم ہو گئی، پھر وہ اترے اور مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں، پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۵۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سفر کا ایک واقعہ بیان ہے۔ اسماعیل بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حمی تک رہے۔ سورج ڈوب گیا تو راوی کو نماز کہنے میں جھجھک ہوئی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما چلتے رہے، یہاں تک کہ افق کی سفیدی اور ابتدائی رات کی تاریکی ختم ہو گئی۔ پھر اترے، مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں، اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع سفر میں مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھنے کا عمل ہے، خاص طور پر جب سفر جاری ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں مغرب کو مؤخر کر کے عشاء کے ساتھ پڑھنے کا عمل بیان ہوا ہے۔
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے عمل کی بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاہدے پر رکھی۔
- مغرب کی تین رکعتوں کے بعد دو رکعت پڑھنے کا ذکر سفر کی حالت میں آیا ہے۔
- نماز سفر میں وقت اور حالت کا لحاظ رکھا گیا۔
