سنن نسائی حدیث ۵۹۴ - سرف میں نماز جمع
مقام سرف میں مغرب اور عشاء جمع کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۵۹۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۹۴
أَخْبَرَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ ، قال : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال : " غَابَتِ الشَّمْسُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ، فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِسَرِفَ " .
جابر روایت:
سورج ڈوب گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے، تو آپ نے مقام سرف میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔
سنن نسائی حدیث ۵۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ ایک مختصر واقعہ بیان کرتے ہیں۔ سورج ڈوب گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے، پھر آپ نے مقام سرف میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔ اس روایت میں تفصیل کم ہے، مگر اصل بات واضح ہے کہ سفر یا راستے کی حالت میں دو نمازیں جمع کر کے ادا کی گئیں۔ یہاں خاص مقام سرف کا ذکر بھی آیا ہے، اس لیے یہ روایت ایک عملی واقعہ ہے۔ اس حدیث سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ نماز کا اہتمام سفر میں بھی برقرار رہا، مگر حالات کے مطابق مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا کیا گیا۔ بیان کو اسی حد تک رکھنا چاہیے جو الفاظ میں موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام سرف میں دو نمازیں جمع کر کے پڑھیں۔
- حدیث میں سورج ڈوبنے کے بعد کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
- سفر میں نماز کا اہتمام برقرار رکھا گیا۔
- مغرب اور عشاء کو اکٹھا ادا کرنے کا عملی نمونہ ملتا ہے۔
