سنن نسائی حدیث ۵۹۵ - سفر کی جلدی میں نماز جمع
سفر کی جلدی میں ظہر عصر اور مغرب عشاء جمع
سنن نسائی : ۵۹۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۹۵
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو ، قال : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قال : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ " إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ حَتَّى يَغِيبَ الشَّفَقُ " .
انس بن مالک روایت:
جب آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کرتے، پھر دونوں کو ایک ساتھ جمع کرتے، اور مغرب کو شفق کے ڈوب جانے تک مؤخر کرتے، اور پھر اسے اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کرتے۔
سنن نسائی حدیث ۵۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کرتے ہیں کہ جب آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کرتے، پھر دونوں کو ایک ساتھ جمع کرتے۔ اسی طرح مغرب کو شفق کے ڈوب جانے تک مؤخر کرتے، پھر اسے عشاء کے ساتھ جمع کرتے۔ اس روایت میں سفر کی جلدی کا ذکر صاف طور پر موجود ہے۔ اس لیے اصل مسئلہ عام حالت کا نہیں بلکہ تیز سفر کی حالت کا ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے اوقات کا اہتمام کیا، مگر سفر کی ضرورت کے مطابق دو دو نمازیں ایک ساتھ پڑھیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر کی جلدی میں ظہر کو عصر کے ساتھ جمع کرنے کا بیان ہے۔
- مغرب کو شفق ڈوبنے تک مؤخر کر کے عشاء کے ساتھ پڑھا گیا۔
- نماز سفر میں حالت کے مطابق آسانی رکھی گئی۔
- حدیث میں نماز چھوڑنے نہیں بلکہ جمع کر کے ادا کرنے کا عمل ہے۔
