سنن نسائی حدیث ۵۹۸ - سفر میں قصر اور جمع

سفر میں قصر اور جمع نماز کا مفصل واقعہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۵۹۸

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ ، قال : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ قَارَوَنْدَا ، قال : سَأَلْنَا سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الصَّلَاة فِي السِّفْر ، فَقُلْنَا : أَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَجْمَعُ بَيْنَ شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ فِي السَّفَرِ ؟ فَقَالَ : لَا ، إِلَّا بِجَمْعٍ ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : كَانَتْ عِنْدَهُ صَفِيَّةُ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ : أَنِّي فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ ، فَرَكِبَ وَأَنَا مَعَهُ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى حَانَتِ الصَّلَاةُ ، فَقَالَ لَهُ الْمُؤَذِّنُ : الصَّلَاةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ نَزَلَ ، فَقَالَ لِلْمُؤَذِّنِ : أَقِمْ فَإِذَا سَلَّمْتُ مِنَ الظُّهْرِ فَأَقِمْ مَكَانَكَ ، فَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ أَقَامَ مَكَانَهُ فَصَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ لَهُ الْمُؤَذِّنُ : الصَّلَاةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ : كَفِعْلِكَ الْأَوَّلِ ، فَسَارَ حَتَّى إِذَا اشْتَبَكَتِ النُّجُومُ نَزَلَ ، فَقَالَ : أَقِمْ فَإِذَا سَلَّمْتُ فَأَقِمْ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَقَامَ مَكَانَهُ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، ثُمَّ سَلَّمَ وَاحِدَةً تِلْقَاءَ وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمْ أَمْرٌ يَخْشَى فَوْتَهُ فَلْيُصَلِّ هَذِهِ الصَّلَاةَ " .

کثیر بن قاروندا روایت:

ہم نے سالم بن عبداللہ سے سفر کی نماز کے بارے میں پوچھا، ہم نے کہا: کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں جمع بین الصلاتین کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، سوائے مزدلفہ کے، پھر چونکے اور کہنے لگے: ان کے نکاح میں صفیہ تھیں، انہوں نے انہیں کہلوا بھیجا کہ میں دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے دن میں ہوں (اس لیے آپ آ کر آخری ملاقات کر لیجئے)، تو وہ سوار ہوئے، اور میں اس ان کے ساتھ تھا، وہ تیز رفتاری سے چلتے رہے یہاں تک کہ نماز کا وقت آ گیا، تو ان سے مؤذن نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئے، لیکن وہ چلتے رہے یہاں تک کہ دونوں نمازوں کا درمیانی وقت آ گیا، تو اترے اور مؤذن سے کہا: اقامت کہو، اور جب میں ظہر پڑھ لوں تو اپنی جگہ پر (دوبارہ) اقامت کہنا، چنانچہ اس نے اقامت کہی، تو انہوں نے ظہر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر تو (مؤذن نے) اپنی اسی جگہ پر پھر اقامت کہی، تو انہوں نے عصر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سوار ہوئے اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن نماز پڑھ لیجئے، تو انہوں نے کہا جیسے پہلے کیا تھا، اسی طرح کرو اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہو گئے تو اترے، اور کہنے لگے: اقامت کہو، اور جب سلام پھیر چکوں تو دوبارہ اقامت کہنا، پھر انہوں نے مغرب کی تین رکعت پڑھائی، پھر اپنی اسی جگہ پر اس نے پھر تکبیر کہی تو انہوں نے عشاء پڑھائی، اور اپنے چہرہ کے سامنے ایک ہی سلام پھیرا، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اسی طرح نماز پڑھے“۔

سنن نسائی حدیث ۵۹۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سالم بن عبداللہ سے سفر کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا۔ پہلے انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزدلفہ کے سوا جمع نہیں کرتے تھے، پھر صفیہ بنت ابو عبید کے واقعے کا ذکر کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما تیزی سے روانہ ہوئے۔ نماز کا وقت آیا تو مؤذن نے یاد دلایا مگر وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ دونوں نمازوں کے درمیانی وقت اترے۔ مؤذن سے اقامت کہلوائی، ظہر دو رکعت پڑھائی، پھر دوبارہ اقامت ہوئی اور عصر دو رکعت پڑھائی۔ بعد میں مغرب تین رکعت اور عشاء پڑھائی۔ آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا کہ جب کوئی ایسا معاملہ آئے جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اسی طرح نماز پڑھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں ظہر اور عصر قصر کے ساتھ جمع کرنے کی تفصیل اس روایت میں ہے۔
  • ہر نماز کے لیے الگ اقامت کا ذکر آیا ہے۔
  • مغرب تین رکعت پڑھی گئی، پھر عشاء ادا کی گئی۔
  • جمع نماز کا تعلق اس روایت میں فوت ہو جانے والے اہم معاملے کے اندیشے سے ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں