سنن نسائی حدیث ۶۰۷ - ابن عمر کا عمل اور نبوی طریقہ

مزدلفہ کی نماز: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان

سنن نسائیحدیث نمبر ۶۰۷

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قال : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، " فَلَمَّا أَتَى جَمْعًا جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا " .

سعید بن جبیر روایت:

جب ابن عمر رضی اللہ عنہم عرفات سے چلے تو میں ان کے ساتھ تھا، جب وہ مزدلفہ آئے تو مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھی، اور جب فارغ ہوئے تو کہنے لگے: اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھی تھی۔

سنن نسائی حدیث ۶۰۷ کا خلاصہ

اس روایت میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کے ذریعے مزدلفہ میں مغرب و عشاء جمع پڑھنے کا طریقہ بیان ہوا ہے۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفات سے چلے۔ جب مزدلفہ پہنچے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھیں۔ نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے واضح کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ اسی طرح نماز پڑھی تھی۔ اس حدیث کا حسن یہ ہے کہ اس میں صرف عمل نہیں، بلکہ اس عمل کی نسبت بھی صاف بیان ہے۔ مزدلفہ کی نماز، عرفات سے روانگی، اور جمع بین الصلاتین تینوں باتیں ایک ساتھ سمجھ آتی ہیں۔ قاری کے لیے اصل سبق یہ ہے کہ صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو جگہ اور عمل کے ساتھ یاد رکھتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھیں۔
  • انہوں نے اپنے عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے جوڑا۔
  • عرفات سے مزدلفہ آنے کے بعد نماز کا ذکر ہے۔
  • صحابہ کرام سنت کو عملی طور پر محفوظ رکھتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں